Monday, September 15, 2014

خوفناک عمارت۔ عمران سیریز قسط ۱

ناول کا آغاز مسٹر عمران کی حماقت سے ہوتا ہے۔ وہ ٹائی پہننے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔ اسی دوران ٹائی اس کے گلے کے گرد پھندے کی  صورت اختیار کر لیتی ہے اور اس تمام صورتحال کا ذمہ دار عمران اپنے نوکر سلیمان کو ٹھہراتا ہے جس کے فرشتوں کو  بھی اس بات کا علم نہیں ہوتا۔ یہی نہیں بلکہ اُس کو اس حرکت کی صفائی پیش کرنے کا کہا جاتا ہے۔ جب وہ سر کھجانے کی کوشش کرتا ہے تو  عمران اس کو کہتا ہے کہ وہ  جوئیں والے سر کو کھجا کر اپنی توانائی اس فضول فعل میں صرف کر رہا ہے۔ اس حرکت بعد سلیمان اُس کی ٹائی باندھنے میں مدد کرتا ہے۔ اس دوران عمران اُس کو کھانا بنانے کی ترکیب بتاتا ہے۔
جیسے ہی وہ کمرے سے باہر نکلتا ہے اُس کا واسطہ اپنی بہن ثریا اور اس کی دوست سے پڑتا ہے۔ وہ ان  دونوں کو اپنی حرکتوں سے محظوظ کرتا ہے۔ وہ ان دونوں کو پکچر دکھانے لے جانے کی حامی بھرتا ہے۔ جیسے ہی اس کی موٹر سائیکل  دروازے کی پھاٹک تک پہنچتی ہے ، عمران کا پالا اپنے دیرینہ دوست اور سراغ رسانی کے محکمہ کے سپرنٹنڈنٹ مسٹر فیاض سے پڑتا ہے۔  عمران اس کے ساتھ اس کی بائیک  کے کیریر پر بیٹھ کر چلا جاتا ہے۔ موٹر سائیکل کی سمت مغرب کی طرف جبکہ عمران کی سمت  مشرق کی ظرف ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے لوگ اس پر ہنستے ہیں۔ مگر عمران لوگوں کی پرواہ نہیں کرتا۔
وہ شہر سے نکل کر ویرانے کی طرف جاتے ہیں۔ فیاض کی موٹر سائیکل ویرانے میں ایک عمارت کے باہر رکتی ہے جہاں پہرہ ہوتا ہے۔ فیاض اس کو ایک کمرے میں لاش دکھاتا ہے جس کے گرد خون ہوتا ہے ۔عمران لاش دیکھتا ہے تو اس پر انکشاف ہوتا ہے کہ اس لاش کے جسم پر تین زخم ہوتے ہیں، جن کے درمیان فاصلہ پانچ  انچ ہوتا ہے۔  فیاض اسے بتا ہے کہ عمارت پانچ سال سے بند رہی ہے۔  اس دورانیے میں صرف یہ جمعرات کے دن شہید کی قبر کی جاروب کشی کے لیے کھولی جاتی تھی۔ عمارت جج صاحب کی ملکیت ہوتی ہے۔ اور بشمول جج صاحب کوئی بھی اس لاش کو  شناخت نہیں کر پاتا۔ اس لاش کے پاس کچھ اوزار پڑے ہوتے ہیں۔ عمران عمارت کا جائزہ  لینے کے بعد واپسی کا رخ اختیار کرتا ہے۔
شام کو عمران، جج  صاحب اور ان کی بیٹی رابعہ فیاض کے  گھر مدعو ہوتے ہیں۔ عمران کا زیادہ وقت خوش گپیوں میں گزرتا ہے اور رات کو پھر    عمران اور فیاض اس عمارت کا رخ کرتے ہیں۔ اس بار ان کو عمارت کا دروازہ کھُلا ملتا ہے۔عمران فیاض کی مدد سے عمارت میں جھانکتا ہے ۔ مگر اس بار صورتحال پہلے سے مختلف ہوتی ہے۔ نامعلوم افراد شہید کی قبر کا تعویذ کھولتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ایک چیخ  فضا میں بلند ہوتی ہے۔ اس سارے ردِ عمل میں نامعلوم افراد بھوت بھوت کی آواز لگاتے ہوئے بھاگ گئے مگر اُن میں سے ایک  کا جسم ٹھنڈا پڑ چکا تھا۔ عمران نے اس کی مٹھی سے کاغذ نکالا اور اپنی جیب میں ڈال لیا۔ وہ فیاض کو لیکر جب صدر دروازے سے اندر داخل ہوا تو لاش غائب تھی۔مگر تازہ خون ابھی بھی پڑا ہوا تھا۔
اگلے دن عمران  ٹپ ٹاپ نائٹ کلب جاتا ہے تو وہاں اس کی ملاقات لیڈی جہانگیر سے ہوتی ہے۔ وہ عمران کی بے تکی باتیں سننے کو تیار نہیں ہوتی مگر عمران کے بھر پور اسرار کے آگے اس کی ایک نہیں چلی۔ اس کے ساتھ باتیں  کرتے کرتے   جسٹس فاروق کی بیٹی کا ذکر ہوتا ہے۔لیڈی جہانگیر اس لڑکی کے بارے میں بہت سے انکشاف کرتی ہے۔
اسی طرح وہ لیڈی جہانگیر کے ساتھ  اس کے گھر چلا جاتا ہے۔وہ اس وقت نشے میں ہوتی ہے اور وہ عمران کو  سر جہانگیر کی خوابگاہ میں بھیج دیتی ہے۔ مگر جیسے ہی اس کا نشہ اترتا ہے وہ اس پر حملہ کر دیتی ہے۔ عمران بہت مشکل سے  اپنی جان چھڑاتا ہے اور اس کو سر جہانگیر  کی خوابگاہ میں ٹھہرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ اور وہ لاش کے پاس  خط سے ملتی  جلتی تحریریں سر جہانگیر کے کمرے میں سے بھی ڈھونڈ لیتا ہے۔صبح  سویرے  ہی عمران کو لیڈی جہانگیر کی رہائشگاہ سے جبراً رخصت ہونا پڑ جاتا ہے۔
گھر سےموٹر سائیکل لینے کے بعد عمران نے  اس عمارت  کا رُخ کیا اور اس عمارت کے بارے میں حیران کُن معلومات حاصل کیں۔ شام کو  جج صاحب کے ساتھ نشست عمران کی معلومات میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔  اس کے بعد عمران واپسی پر رابعہ کی گاڑی میں بیٹھ جاتا ہے اور  رابعہ کو عمران کے آگے گھٹنے ٹیکنے  پڑ جاتے ہیں اور بالاخر وہ سب  کچھ اگل دیتی ہے۔اس طرح عمران کو کہانی کے مرکزی کردار کی طرف اشارہ مل جاتا ہے۔ اس کے بعد عمران رابعہ کے بتائے ہوئے آدمی کی جاسوسی کرتا ہے اور ایک بلڈنگ میں داخل ہوتا ہے جہاں اس کی لڑائی ہوتی ہے اور عمران وہاں اپنے عجیب و غریب ہتھیاروں سے حملہ کرتا ہے اور آخر کار عمران انکا  چرمی بیگ لے کر بھاگ جاتا ہے۔
اور دوسرے دن وہ فیاض کے حوالے کر دیتا ہے اور اس بیگ سے کچھ ایسے کاغذات بھی ملتے ہیں فارن آفس کے  ہوتے ہیں۔
اس کے بعد  عمران قبر کا بھید بھی کھول دیتا ہے اور مرکزی کرداروں کو قانون کے حوالے کردیتا ہے
ناول کو ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
 ڈاؤنلوڈ
ناول کی اگلی قسط کے لیے یہاں کلک کریں

Monday, July 21, 2014

Imran Series

Imran series was the most favorite series of nineteenth century. It was popular due to adventure and the strategy. This is the story of a guy named Imran who was head of a secret intelligence agency. His father was also head of another agency under the interior ministry and Imran was the head of agency under the foreign ministry.

Earlier Imran was working on the same agency where Mr. Fiaz and his dad being worked but later his dad fired him from the job due to his humor that was irritating for everyone.

There were many threats that were being handled by Imran including murders, killings, traitors, corruption, zero land’s agents, foreign agents and the politicians that were funded by foreign countries.

Imran series was the only series that was so popular that more than two writers were writing that at a time and both were having lots of sales. Many other writers started same series with different names like Jamshaid series etc and all were popular among the readers very much.

Initially these series were too costly to buy but when the writers like IBN-E-Safi started to print these books on newspaper print then these books became more popular ever. This kind of series were highly demanding among the book and novel readers of Pakistan and India.

I have conducted a survey before starting this blog and I came to know that people are still loving this kind of books very much. Many comments indicated the reason of popularity of this series. One student of Pakistan responded to the survey panel that she like Imran series the most because she found very much use of technology there and developed countries cannot meet the technology there that was used by Imran and his opponents in the novel.

The popularity of such ruling books and novels is getting low because of social media and the use of internet. The writers of Imran series has been died and there are very few people who are contributing for the promotion of such books.

My basic purpose of starting this blog was to provide the books to readers for free so that no one can miss a book to read just because of financial issues. Everything here will be free, if you have any book that you want to read in the Ebook format then you can contact us and demand book. First we will buy that book and then we will share in digital format with you for free. To read most of the books you must have any pdf reader. Most of the smart phones and latest version has pre apps of pdf viewers. If you do not have then you can download it for free. If you are unable to find then contact us and we will provide you the free copy or the copy from our commercial license.

If you are enjoying our free service then you must share the article so that all the people can took benefit and we will increase the speed when we will have more and more readers and more readers does not mean that we will be betrayed but that will mean that there will be more and more books on the request of our readers.