ناول کا آغاز مسٹر عمران کی حماقت سے ہوتا ہے۔ وہ ٹائی
پہننے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔ اسی دوران ٹائی اس کے گلے کے گرد پھندے کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور اس تمام صورتحال کا
ذمہ دار عمران اپنے نوکر سلیمان کو ٹھہراتا ہے جس کے فرشتوں کو بھی اس بات کا علم نہیں ہوتا۔ یہی نہیں بلکہ اُس
کو اس حرکت کی صفائی پیش کرنے کا کہا جاتا ہے۔ جب وہ سر کھجانے کی کوشش کرتا ہے تو
عمران اس کو کہتا ہے کہ وہ جوئیں والے سر کو کھجا کر اپنی توانائی اس فضول
فعل میں صرف کر رہا ہے۔ اس حرکت بعد سلیمان اُس کی ٹائی باندھنے میں مدد کرتا ہے۔
اس دوران عمران اُس کو کھانا بنانے کی ترکیب بتاتا ہے۔
جیسے ہی وہ کمرے سے باہر نکلتا ہے اُس کا واسطہ اپنی بہن
ثریا اور اس کی دوست سے پڑتا ہے۔ وہ ان دونوں کو اپنی حرکتوں سے محظوظ کرتا ہے۔ وہ ان
دونوں کو پکچر دکھانے لے جانے کی حامی بھرتا ہے۔ جیسے ہی اس کی موٹر سائیکل دروازے کی پھاٹک تک پہنچتی ہے ، عمران کا پالا
اپنے دیرینہ دوست اور سراغ رسانی کے محکمہ کے سپرنٹنڈنٹ مسٹر فیاض سے پڑتا ہے۔ عمران اس کے ساتھ اس کی بائیک کے کیریر پر بیٹھ کر چلا جاتا ہے۔ موٹر سائیکل
کی سمت مغرب کی طرف جبکہ عمران کی سمت
مشرق کی ظرف ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے لوگ اس پر ہنستے ہیں۔ مگر عمران لوگوں
کی پرواہ نہیں کرتا۔
وہ شہر سے نکل کر ویرانے کی طرف جاتے ہیں۔ فیاض کی موٹر
سائیکل ویرانے میں ایک عمارت کے باہر رکتی ہے جہاں پہرہ ہوتا ہے۔ فیاض اس کو ایک
کمرے میں لاش دکھاتا ہے جس کے گرد خون ہوتا ہے ۔عمران لاش دیکھتا ہے تو اس پر
انکشاف ہوتا ہے کہ اس لاش کے جسم پر تین زخم ہوتے ہیں، جن کے درمیان فاصلہ
پانچ انچ ہوتا ہے۔ فیاض اسے بتا ہے کہ عمارت پانچ سال سے بند رہی
ہے۔ اس دورانیے میں صرف یہ جمعرات کے دن شہید
کی قبر کی جاروب کشی کے لیے کھولی جاتی تھی۔ عمارت جج صاحب کی ملکیت ہوتی ہے۔ اور
بشمول جج صاحب کوئی بھی اس لاش کو شناخت
نہیں کر پاتا۔ اس لاش کے پاس کچھ اوزار پڑے ہوتے ہیں۔ عمران عمارت کا جائزہ لینے کے بعد واپسی کا رخ اختیار کرتا ہے۔
شام کو عمران، جج
صاحب اور ان کی بیٹی رابعہ فیاض کے
گھر مدعو ہوتے ہیں۔ عمران کا زیادہ وقت خوش گپیوں میں گزرتا ہے اور رات کو
پھر عمران اور فیاض اس عمارت کا رخ کرتے ہیں۔ اس
بار ان کو عمارت کا دروازہ کھُلا ملتا ہے۔عمران فیاض کی مدد سے عمارت میں جھانکتا
ہے ۔ مگر اس بار صورتحال پہلے سے مختلف ہوتی ہے۔ نامعلوم افراد شہید کی قبر کا
تعویذ کھولتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ایک چیخ
فضا میں بلند ہوتی ہے۔ اس سارے ردِ عمل میں نامعلوم افراد بھوت بھوت کی
آواز لگاتے ہوئے بھاگ گئے مگر اُن میں سے ایک
کا جسم ٹھنڈا پڑ چکا تھا۔ عمران نے اس کی مٹھی سے کاغذ نکالا اور اپنی جیب
میں ڈال لیا۔ وہ فیاض کو لیکر جب صدر دروازے سے اندر داخل ہوا تو لاش غائب تھی۔مگر
تازہ خون ابھی بھی پڑا ہوا تھا۔
اگلے دن عمران ٹپ
ٹاپ نائٹ کلب جاتا ہے تو وہاں اس کی ملاقات لیڈی جہانگیر سے ہوتی ہے۔ وہ عمران کی
بے تکی باتیں سننے کو تیار نہیں ہوتی مگر عمران کے بھر پور اسرار کے آگے اس کی ایک
نہیں چلی۔ اس کے ساتھ باتیں کرتے کرتے جسٹس
فاروق کی بیٹی کا ذکر ہوتا ہے۔لیڈی جہانگیر اس لڑکی کے بارے میں بہت سے انکشاف
کرتی ہے۔
اسی طرح وہ لیڈی جہانگیر کے ساتھ اس کے گھر چلا جاتا ہے۔وہ اس وقت نشے میں ہوتی ہے
اور وہ عمران کو سر جہانگیر کی خوابگاہ
میں بھیج دیتی ہے۔ مگر جیسے ہی اس کا نشہ اترتا ہے وہ اس پر حملہ کر دیتی ہے۔ عمران
بہت مشکل سے اپنی جان
چھڑاتا ہے اور اس کو سر جہانگیر کی
خوابگاہ میں ٹھہرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ اور وہ لاش کے پاس خط سے ملتی
جلتی تحریریں سر جہانگیر کے کمرے میں سے بھی ڈھونڈ لیتا ہے۔صبح سویرے
ہی عمران کو لیڈی جہانگیر کی رہائشگاہ سے جبراً رخصت ہونا پڑ جاتا ہے۔
گھر سےموٹر سائیکل لینے کے بعد عمران نے اس عمارت
کا رُخ کیا اور اس عمارت کے بارے میں حیران کُن معلومات حاصل کیں۔ شام کو جج صاحب کے ساتھ نشست عمران کی معلومات میں
اضافے کا سبب بنتی ہے۔ اس
کے بعد عمران واپسی پر رابعہ کی گاڑی میں بیٹھ جاتا ہے اور رابعہ کو عمران کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑ جاتے ہیں اور بالاخر وہ سب کچھ اگل دیتی ہے۔اس طرح عمران کو کہانی کے
مرکزی کردار کی طرف اشارہ مل جاتا ہے۔ اس کے بعد عمران رابعہ کے بتائے ہوئے آدمی
کی جاسوسی کرتا ہے اور ایک بلڈنگ میں داخل ہوتا ہے جہاں اس کی لڑائی ہوتی ہے اور
عمران وہاں اپنے عجیب و غریب ہتھیاروں سے حملہ کرتا ہے اور آخر کار عمران
انکا چرمی بیگ لے کر بھاگ جاتا ہے۔
اور دوسرے دن وہ فیاض کے حوالے کر دیتا ہے اور اس بیگ سے
کچھ ایسے کاغذات بھی ملتے ہیں فارن آفس کے ہوتے ہیں۔
اس کے بعد عمران
قبر کا بھید بھی کھول دیتا ہے اور مرکزی کرداروں کو قانون کے حوالے کردیتا ہے
ناول کی اگلی قسط کے لیے یہاں کلک کریں
No comments:
Post a Comment